خود اعتمادی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اپنے قول یا عمل کو موثر اور مفید سمجھنے کا احساس، ذاتی رائے یا طاقت پر، بھروسا ہونے کا یقین۔ "طفیل میں شیر کی دبی دبی تندی ہے، غصہ ہے، خود اعتمادی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٥٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ لفظ 'خود' کے ساتھ عربی سے مشتق اسم 'اعتماد' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ اسمیت و کیفیت لگانے سے مرکب 'خود اعتمادی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٣٨ء کو "حالاتِ سرسید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اپنے قول یا عمل کو موثر اور مفید سمجھنے کا احساس، ذاتی رائے یا طاقت پر، بھروسا ہونے کا یقین۔ "طفیل میں شیر کی دبی دبی تندی ہے، غصہ ہے، خود اعتمادی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٥٣ )

جنس: مؤنث